Pages

Urdu Short Story Cement Mein Dafan Admi By M.Mubin

0 comments



افسانہ سمینٹ میں دفن آدمی از:۔ ایم مبین

اُس کے سامنے سمینٹ کا ایک بڑا سا ٹکڑا رکھا ہوا تھا اور اُس کے ہاتھ میں سمینٹ توڑنے کی مشین ۔

اس سمینٹ کے ٹکڑے میں اُس کا دوست ، محسن ، کرم فرما دفن تھا ۔اور اُسے اِس سمینٹ کے ٹکڑے کو توڑ کر اپنے اس دوست کی لاش نکالنی تھی ۔

سمینٹ کو ڈرل کرکے توڑنے والی مشین اس کے ہاتھوں میں کانپ رہی تھی ۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ مشین کے زوردار جھٹکوں سے بھی اس کے ہاتھ کانپے ہوں ۔

جب وہ اپنے دونوں ہاتھوں میں ڈرل کرنے کی مشین پکڑ لیتا تھا اور اسے مضبوط سے مضبوط سمینٹ یا پتھر کے ٹکڑے پر بھی رکھ دیتا تھا تو اس کی نوک اس سخت پتھر یا سمینٹ میں سوراخ کرتی جاتی تھی ۔ مشین کے جھٹکوں سے اس کے ہاتھ نہیں کانپتے تھے ۔ ہاں اس کے مضبوط بازوؤں کی مچھلیاں ضرور پھڑپھڑاتی تھیں ۔

جن کو اس کام کی سختی کا اندازہ تھا ، اسے کام کرتے دیکھ کر اس سے رشک کرتے تھے ۔

" ماشا ء اللہ خدا نے کیسی طاقت سے نوازہ ہے ، ہاتھوں میں رعشہ پڑنے کے بجائے پتھر اور سمینٹ میں رعشہ پڑجاتا ہے ۔ "

لیکن آج اُس کے ہاتھوں میں رعشہ پڑا ہوا تھا ۔

آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہہ رہے تھے ، قدرت نے اسے کتنی بڑی آزمائش میں ڈالا تھا ۔ اسے اس سمینٹ کے تودے سے اسلم کی لاش نکالنی تھی ۔

اسلم کی موت کی خبر سن کر وہ پاگلوں کی طرح رونے لگا تھا ۔ اُسے سمجھانے اور چپ کرانے میں اس کنویں پرکام کرنے والے اس کے ساتھی اور دوستوں کو گھنٹوں لگ گئے تھے ۔

" نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ، اسلم بھائی نہیں مرسکتے ، یہ جھوٹ ہے ۔"

وہ بار بار یہ کہتے دہاڑیں مار مار کر رونے لگتا تھا ۔

اور ہر بار اس کے ساتھیوں کو اسلم کی موت کا سین دہرانا پڑتا تھا ۔

" آخر تم یقین کیوں نہیں کرتے ہو کہ اسلم اب اس دُنیا میں نہیں ہے ۔اسے ایسی موت نصیب ہوئی ہے جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہے ۔ تیل کے کنویں کے لئے ستون کا کام شروع ہوا تھا ، اس کی نگرانی اسلم ہی کر رہا تھا ۔ ہوا لگتے ہی پتھر کی طرح سخت ہوجانے والا سمینٹ سمندر کی تہہ میں ڈال کر اس تیل کے کنویں کا ستون بنایا جارہا تھا ۔ مشین کے ذریعہ سمینٹ نئی تعمیر ہونے والے ستون پر گررہا تھا ، مشینیں اُسے مطلوبہ شکل دے رہی تھیں ۔ اسلم سمینٹ کے ڈھیر میں سمینٹ کی مقدار کی جانچ کرر ہا تھا ۔ اس کے لئے وہ جھکا ہوا تھا ۔ اچانک اُس کا توازن بگڑ گیا اور وہ نیچے اس تعمیر ہونے والے ستون پر جاگرا اور اُسی وقت اُس پر کئی ٹن سمینٹ آکر گرا جو آن کی آن میں پتھر کی طرح سخت ہوگیا اور اسلم اس سمینٹ میں دفن ہوگیا ۔ بڑی مشکل سے اندازہ لگا کر سمینٹ کو اس ممکنہ حصے سے کاٹنے کا کام شروع کیا گیا ہے جہاں اسلم دفن ہے ، اسلم کی موت میں کوئی دو رائے نہیں تھی ۔

اس کے گرنے کے بعد دُوسرے لمحے ہی جس کسی نے اسلم کو سمینٹ میں دفن ہوتے دیکھا اس کی موت کا اعلان کردیا تھا ۔ کسی کو بھی اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی ۔ بھلا کچھ لمحوں میں ہی پتھر کی طرح سخت ہوجانے والے سمینٹ کی قبر میں بھی کوئی زندہ رہ سکتا ہے ؟

لیکن وہ تھا کہ مانتا ہی نہیں تھا کہ اسلم اب اس دُنیا میں نہیں ہے ۔

بڑی مشکل سے بڑی بڑی مشینوں سے اِس حصے کو کاٹ کر نکالا گیا جس میں اسلم دفن تھا ۔

اور اس سمینٹ کے تودے کو توڑ کر اسلم کی لاش نکالنے کا حکم بھی وہ کام کرنے والوں کو دے دیا ۔

اس وقت وہ اس سمینٹ کے ٹکڑے کے سامنے کھڑا اسے گھور رہا تھا اور اندازہ لگانے کی کوشش کررہا تھا کہ اس سمینٹ کے تودے میں اسلم کہاں دفن ہوگا ۔

چار پانچ مزدور ہاتھوں میں سمینٹ میں ڈرل کرنے والی مشینیں لے کر آگے بڑھے تاکہ اس سمینٹ کو توڑ کر اندر سے اسلم کی لاش نکالی جائے ۔

اس منظر کو دیکھ کر وہ کانپ اُٹھا ۔

اسے ایسا محسوس ہوا جیسے ڈرل مشینیں اسلم کو سمینٹ کی قبر سے باہر نکالنے کی کوشش میں اس کے جسم کے آرپار گذر کر اُسے چھلنی کر رہی ہے ۔

" نہیں ، نہیں .. ! رُک جاؤ ۔ اپنے دوست کو میں اس سمینٹ کی قبر کے باہر نکالوں گا ۔ " وہ چیخا ۔

سپروائزر نے اس کی بات سن کر آنکھوں ہی آنکھوں میں ان مزدوروں کو اشارہ کیا ۔ وہ سب اس اشارے کو سمجھ کر اپنی اپنی مشینیں لے کر پیچھے ہٹ گئے ۔

" جاوید ! مجھے تم سے ہمدردی ہے ۔ " سپروائزر کا شفیق ہاتھ اسے اپنے کاندھے پر محسوس ہوا ۔ "مجھے پتا ہے اسلم تمہیں کتنا چاہتا تھا اور تم اسے کتنا چاہتے تھے ، ٹھیک ہے ! تم اکیلے ہی اپنے طور پر اپنے دوست کی لاش اس سمینٹ کی قبر سے کھود کر باہر نکالو ۔ "

اور اب اسے اپنے دوست کی لاش اس سمینٹ کی قبر سے کھود کر نکالنی تھی ۔

اس کے ہاتھ میں ڈرل کرکے سمینٹ کو توڑنے والی مشین بھی تھی ۔

لیکن اب تک اپنا کام شروع بھی نہیں کرپایا تھا ۔

وہ اس سمینٹ کے ٹکڑے کے جس حصے پر اپنی مشین رکھتا ، اسے محسوس ہوتا جیسے اس حصے میں اس جگہ اسلم کے جسم کا کوئی حصہ دبا ہے ۔ اگر اس جگہ کو اس نے ڈرل مشین کے ذریعہ توڑنے کی کوشش کی تو ممکن ہے اسلم کے جسم کے اس حصے کو بھی نقصان پہونچے جو اس جگہ دفن ہے ۔

اور وہ ڈر کر اس جگہ سے اپنی مشین ہٹا لیتا تھا اور ابھی تک اپنا کام بھی شروع نہیں کرپایا تھا ۔

جب بھی وہ مشین سمینٹ کے تودے پر رکھتا اس کے ہاتھ اور ہاتھوں کی مشین کانپنے لگتی ، ایسا محسوس ہوتا جیسے سمینٹ کے نیچے دبا اسلم اسے مسکرا کر دیکھ رہا ہے ۔

" شروع کرو ، جاوید ! جیتے جی تو میرے جسم پر ہلکی سی خراش بھی آجاتی تھی تو تم تڑپ اُٹھتے تھے ۔ اب شاید میرے مقدر میں میرے جسم کو تمہارے ہاتھوں ہی چھلنی ہونا ہے ۔ "

وہ گھبرا کر مشین پھینک دیتا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ چھپا کر زار و قطار رونے لگتا ۔

اسلم کے گھر اس کی موت کی خبر دی جاچکی تھی ۔ ان سے کہا گیا تھا کہ اسلم کی لاش ایک دو دِن میں روانہ کردی جائے گی ۔

اور وہ اسلم کے گھر کے ماحول کا تصور کرکے کانپ اُٹھ رہا تھا ۔

دو مہینے بعد اسلم واپس اپنے وطن ، اپنے گھر جانے والا تھا ۔

اس کے گھر والے اس کے آنے کی اُمید لگائے ہوئے ہوں گے ۔ اُنھوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس بار اُن کے پاس اسلم نہیں اسلم کی لاش آئے گی ۔

کیا بیتے گی اُن کے دِل پر اسلم کی لاش دیکھ کر ؟

اُنھیں ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ اسلم کو قبر میں دفن نہیں کریں گے ، اپنی ساری خواہشیں ، ارمانوں کو قبر میں دفن کریں گے ۔

اس سال اسلم کو کتنے کام کرنے تھے ۔

اپنا گھر بنانا تھا ، بڑی بیٹی کی شادی کرنی تھی ، چھوٹی بیٹی کے لئے کوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈنا تھا ، لڑکے کو کسی اچھے تعلیمی ادارے میں اعلیٰ تعلیم کے لئے داخل کرنا تھا ۔

بیمار ماں کا علاج کرنا تھا ، اپاہج بھائی کے بچوں کو روزی ، روٹی کے لئے ایک دوکان ڈال کر دینی تھی ۔

ہر بار جاوید دو سال تک اِس سمندر کے درمیان رہ کر ، سمندر کی مرطوب ہوا میں اپنے خون کا پسینہ بناکر ، بہا کر جو پیسے جمع کرتا اور ان جمع پیسوں کے سہارے جو خواب سجاتا ہے ، ان پیسوں اور خوابوں کو لے کر جب وطن جاتا ہے تو سارے خواب ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں اور سارے پیسے ختم ہوجاتے ہیں ، کسی بھی خواب کی تعبیر حاصل نہیں کرپاتا ہے ۔

کیونکہ گھر جانے کے بعد وہاں پر دُوسرے ہی کئی انجانے مسائل اژدھے کی طرح منہ پھاڑے کھڑے ہوتے ہیں ، وہ جیسے ہی وہاں پہونچتا ، وہ اُس کی طرف لپکتے ہیں اور سارا پیسہ نگل جاتے ہیں ، خواب حسرت سے اُنھیں دیکھتے رہ جاتے ہیں ، اپنے خوابوں کو تسلّی دیتا کہ انشاء اللہ آئندہ سال اُن کی تعبیر ضرور کرے گا ۔ گذشتہ دس سالوں سے یہی ہورہا تھا ۔

وہ دس سال قبل وہاں آیا تھا ۔ بلڈنگوں کو تعمیر کرکے ان پر پلاسٹر لگانے کا کام کرتا تھا ۔

ایک دِن کمپنی نے اُسے کچھ دِنوں کے لئے سمندرمیں تعمیر ہونے والے تیل کے کنوؤں کی تعمیر کے کام کے لئے بھیج دیا ۔

یہ کام بلڈنگوں کی تعمیر سے زیادہ خطرناک تھا ۔

لوگ اِس کام میں ہاتھ ڈالنے سے ہی گھبراتے تھے ۔

لیکن تین چار دِن وہاں کام کرنے کے بعد اسلم کو محسوس ہوا ، وہاں کام کرنے میں خطرہ ضرور ہے لیکن آدمی چوکنا رہے تو یہ خطروں بھرا کام بھی آسان ہوسکتا ہے ۔

وہاں جس سپروائزر کے ماتحت وہ کام کررہا تھا وہ بھی اُس کے کام سے متاثر ہوا اور اُس نے خود پیش کش کی ۔

" اسلم اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے کام کی سفارش کرسکتا ہوں ۔ ان دو تین دِنوں میں تم اچھی طرح سمجھ چکے ہو گے ، یہاں کیا کام ہوتا ہے اوروہ تم کرسکتے ہو یا نہیں ، اگر تم چاہو تو یہاں کام کرکے تم دوگنا پیسہ کما سکتے ہو اور یہاں پر تمہیں سہولیات بھی بہت سی ملیں گی ۔ "

وہ وہاں کام کرنے کے لئے راضی ہوگیا ۔

اسے تیل کے کنووں میں کام کرنے پر معمور کردیا گیا ۔

سمندر کی گہرائی سے بڑے بڑے ستون باندھ کر سطح سمندر کے اوپر تک لائے جاتے تھے ، اس پر ایک بڑا سا پلیٹ فارم تیار کیا جاتا تھا اور اسی پلیٹ فارم پر ساری دُنیا ہوتی تھی ۔

سمندر سے تیل نکالنے کی بڑی بڑی مشینیں ، تیل صاف کرنے کی مشینیں اور اس کے لئے وہاں کام کرنے والے سیکڑوں ، ہزاروں افرادوں کے کوارٹرس ....

. کام دِن رات چلتا رہتا تھا ۔

کام کرنے والے دو شفٹوں میں کام کرتے تھے ، کبھی دِن کی شفٹ میں تو کبھی رات کی شفٹ میں ۔ کام ختم ہونے کے بعد ان کے پاس اپنے کوارٹروں میں جاکر سونے کے علاوہ کوئی کام نہیںہوتا تھا ۔ کیونکہ وہ دِل بہلانے کے لئے کہیں جا نہیں سکتے تھے ، چاروں طرف سمندر تھا ، زیادہ سے زیادہ وہ آپس میں انڈور گیم کھیل کر ، پسندیدہ موسیقی سن کر یا ٹی وی پروگرام دیکھ کر دِل بہلاسکتے تھے ۔

ہفتے میں ایک دِن اُنھیں اِس تیل کے کنویں سے دُور زمین پر لے جایا جاتا تھا ۔ اِس طرح وہ ایک دِن اس سمندر سے دُور گذارتے تھے ۔

اپنے پسند اور ضروریات کی چیزیں خریدتے ، اپنے رشتے داروں کو فون کرتے یا خطوط پوسٹ کرتے تھے ۔

اور شام کو واپس تیل کے کنویں پر آجاتے تھے ۔

جب تیل کا کنواں پوری طرح تعمیر ہوجاتا تھا تو پھر نئے کنویں کی تعمیر کے لئے اُنھیں نئی جگہ جانا پڑتا تھا ۔

تعمیر کا کام برسوں چلتا تھا ، کبھی کبھی دو تین سالوں میں بھی اس کی تعمیر کا کام مکمل نہیں ہوپاتا تھا ۔

نئی جگہ جانے کے بعد بھی اُنھیں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی تھی ۔ کیونکہ ان کے لئے تو ماحول ایک جیسا ہی رہتا تھا ۔

چاروں طرف سمندر اور اس کے درمیان ایک پلیٹ فارم پر کسی چھوٹے سے جزیرے پر آباد وہ ....

اُسے وہاں آئے صرف دو سال ہوئے تھے ۔ اسے آتے ہی اسلم کی ماتحتی میں کام کرنا پڑا تھا ۔

دو تین دِنوں میں ہی وہ ایک دوسرے سے کافی گھل مل گئے تھے ۔ کیونکہ دونوں کا تعلق ایک ہی ریاست اور ایک ہی ضلع سے تھا ۔

ایک ہی مقام کے ہونے کی وجہ سے دِلوں میں فطری طور پر اُنسیت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے ۔ ان دوسالوں میں اسلم نے اپنے گذشتہ دس سالوں کی زندگی کا ایک ایک پل کھول کر رکھ دیا تھا ۔

وہ وہاں غریب الوطنی کی اسلم کی دس سالہ زندگی سے اچھی طرح واقف ہوگیا تھا ، وہ اسلم کے گھر ، اُس کے افراد ، کے خاندان والوں سے بھی بالکل اسی طرح واقف ہوگیا تھا جیسے وہ اُن کا کبھی ایک جزو رہا ہو ۔

ان دس سالوں میں اسلم ایک معمولی میسن سے ترقی کرکے سپروائزر بن گیا تھا ۔

اب تیل کے کنووں کی تعمیر میں اس کے تجربات کے نیک مشورے بھی شامل ہوتے تھے ۔ کمپنی کے اعلیٰ افسران اپنے انجنےئروں کو اسلم کے مشورو ں پر غور کرنے کی ہدایت دیتے تھے ۔

وہ ان پڑھ اور جاہل آدمی تھا ۔ لیکن گذشتہ دس سالوں میں سمندر میں تیل کے کنووں کی تعمیر کے سلسلے میں اتنا تجربہ حاصل ہوگیا تھا کہ وہ خود کسی بڑے سے بڑے انجنےئر سے بڑھ کر پلان بنا سکتا تھا ۔

وہ وہاں پر ایک معمولی ویلڈر کے طور پر آیا تھا ۔ تیل کے تعمیر ہونے والے کنووں پر لوہے کو کاٹنے اور جوڑنے کا ہی زیادہ کام ہوتا تھا لیکن اسلم نے اسے مشورہ دیا تھا ۔

" تم صرف اِس کام میں مت لگے رہو ، اور بھی دُوسرے کام سیکھ لو ، یہ تمہارے کام آئیں گے ۔ "

اور وہ تقریباً سارے کام سیکھ گیا تھا ، سچ مچ وہ کام اُ س کے لئے بڑے مفید ثابت ہوئے تھے ۔

اسے ہر کام آتا ہے ، آفیسروں کو جو اُس کا پتہ چلا تھا تو اس کے لئے اُن کے دِل میں اس کی عزت بھی بڑھ گئی تھی ۔

اسلم ہر دو سال میں ایک بار دو مہینے کے لئے اپنے گھر جاتا تھا ۔

اور ہر سال وہ کوئی نہ کوئی بڑا کام کرکے آتا تھا ، بڑا کام اور کیا ہوسکتا تھا ، گھر کی تعمیر ، کسی کھیت کا سودا یا پھر شادی بیاہ ۔ پہلے دو سال میں اس نے اپنے بہن بھائیوں کی شادیاں کیں ، اس کے بعد رشتہ داروں کی اور اس بار اسے اپنی بیٹی کی شادی کرنی تھی ۔

اسلم گھر جانے کی تیاریاں کررہا تھا ۔

" جاوید مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے کہ اس بار جب میں وطن جاکر واپس آجاؤں گا تب تم وطن جاؤگے ، میری دِلی تمنا تھی کہ اس بار ہم ساتھ وطن جاتے تو تمہیں آٹھ دس دِن اپنے گھر میں رکھتا ۔ "

" اسلم بھائی ! آپ اپنا دِل چھوٹا کیوں کررہے ہیں ؟ اطمینان رکھئے ۔ وطن واپس جانے کے بعد میں آپ کے گھر ضرور جاؤں گا ۔ " لیکن پھر بھی اسلم کو اطمینان نہیں ہوپاتا تھا ۔

اس کا ارمان تھا کہ وہ اس کی بیٹی کی شادی میں شریک ہو۔ اُس کے گھر میں اس کی بیٹی کی شادی کی تےّاریاں چل رہی ہوگی ۔ اس کے استقبال کی تےّاریاں ہورہی ہوں گی ۔

اور وہ ایک خواب کی طرح بکھر کر سمینٹ کے نیچے دفن ہوگیا تھا ۔ اسے اسلم کو سمینٹ کے نیچے سے نکالنا تھا ۔

تاکہ اس کی لاش اس کے لواحقین کو وطن روانہ کی جاسکے اور وہ اُس کی تدفین کرسکے ۔

Add:-
M.Mubin
303- Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI – 421 302
Dist. Thane ( Maharashtra)